ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایک وزیر کی سرپرستی، ایک وکیل کی صلاح اور انکاؤنٹر نہ ہونے کی گارنٹی پر دی تھی وکاس دوبے نے گرفتاری!

ایک وزیر کی سرپرستی، ایک وکیل کی صلاح اور انکاؤنٹر نہ ہونے کی گارنٹی پر دی تھی وکاس دوبے نے گرفتاری!

Sun, 12 Jul 2020 10:32:07    S.O. News Service

نئی دہلی،12جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی)کانپور دیہات میں 8 پولیس والوں کا قتل کرنے کے بعد بدنام زمانہ گینگسٹر وکاس دوبے بری طرح گھبرا گیا تھا۔ تبھی اسے ریاست کے ایک وزیر نے پناہ دی اور اسے مدھیہ پردیش کے اجین جانے کے لئے تیار کیا۔ اس کام میں اسے ایک وکیل کی صلاح بھی ملی اور ایک کاروباری نے اس کی مدد کی۔

یہ انکشاف اتر پردیش سے شائع ہونے والے ہندی اخبار”امر اجالا“ نے کیا ہے۔ اخبار کا دعویٰ ہے کہ منصوبہ بنا کر ہی اسے اجین کے مہاکال مندر میں بھیج کر گرفتاری کرائی گئی۔اخبار کے مطابق لیڈروں کو ڈھال بنا کر ہی وہ 8 پولیس کا قتل کرنے کے بعد 6 دن تک پولیس کی گرفت سے دور رہا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ پوچھ تاچھ کے دوران وکاس نے پولیس کو کئی جانکاریاں دی تھیں جن میں اس کے یو پی، ایم پی اور دوسری ریاستوں میں لیڈروں و وزراء سے رشتے سامنے آئے تھے۔ انہی بنیاد پر وہ بے خوف جرائم کرتا رہا اور بچتا رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ کانپور واقعہ سرزد ہونے کے کچھ گھنٹے کے اندر ہی اس کے ہر قریبی کو اس کی جانکاری مل گئی تھی اور ایک وزیر نے اسے انکاؤنٹر سے بچانے کا بھروسہ دیا تھا۔ اسے ایک وکیل نے بھی مشورہ دیا تھا کہ اِدھر اْدھر بھاگنے کی جگہ اسے عوامی طور پر گرفتاری دے دینی چاہئے۔ اس معاملے میں اسے مدھیہ پردیش کے ایک بڑے کاروباری نے بھی کافی مدد کی۔

وکاس سے پوچھ تاچھ میں شامل رہے ایک پولیس افسر کے حوالے سے اخبار نے لکھا ہے کہ وزیر کے کہنے پر اسے وکیل نے مشورہ دیا تھا کہ یا تو وہ عدالت میں خود سپردگی کر دے یا پھر عوامی طور پر اپنی گرفتاری دے دے جس سے اس کی گرفتاری کا ویڈیو وائرل ہو جائے۔ اس طرح وہ انکاؤنٹر سے بچ سکتا ہے۔ عدالت میں سرینڈر کرنے سے وکاس ڈر رہا تھا اسی لئے یو پی کے باہر عوامی طور پر گرفتار ہونے کا منصوبہ بنایا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ جن وزیر کے رابطہ میں وکاس دوبے تھا ان کا مدھیہ پردیش میں بھی خاصہ دبدبہ ہے۔ اسی لئے چپے چپے پر سی سی ٹی وی کیمرے والے اجین کے مہاکال مندر کو منتخب کیا گیا۔ گرفتار ہونے کے بعد وکاس دوبے کا چیخ کر یہ کہنا کہ "میں وکاس دوبے ہوں، کانپور والا" بھی بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔ ویڈیو میں صاف نظر آ رہا ہے کہ خود کی پہچان بتانے کے بعد وہ کسی کو دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے،یعنی مطمئن ہو جانا چاہتا ہے کہ اسے اب بچا لیا جائے گا۔

اس تعلق سے ایک اور بات پر سوال اٹھ رہے ہیں، اور وہ یہ کہ آخر وکاس دوبے کی گرفتاری سے ایک شام قبل ہی اجین مہاکال مندر والے تھانہ کے تھانہ دار اور سرکل افسر کو کیوں ہٹایا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کا ماننا ہے کہ اس کی گرفتاری کرانے کے لئے تھانہ میں اسپیشل تھانہ دار اور سی او کی تعیناتی کرائی گئی تھی۔ لیکن اب بھی کئی ایسے سوال ہیں جن کی گتھیاں اَن سلجھی ہیں اور وکاس کی موت کے بعد کئی سوال خود ہی خاموش ہو گئے ہیں۔


Share: